مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیراہتمام شہدائے APS کی یاد میں امن ریلیوں اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد

لاہور سمیت ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات پر طلبہ ’’امن ریلیاں‘‘ نکالی گئیں
ریلیوں میں طلبہ راہنماؤں نے تعلیم کے ذریعے دہشتگردی کو شکست دینے کا عہد کیا
APS کے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: عرفان یوسف
دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ’’امن نصاب‘‘ پڑھایا جائے: ریلیوں میں مطالبہ

لاہور (16 دسمبر 2017) مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیر اہتمام آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لاہور سمیت ملک بھر میں 100سے زائد مقامات پر طلبہ ’’امن ریلیاں‘‘نکالی گئیں اور خصوصی دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا، شہداء کی تیسر ی برسی کے موقع پر نکالی جانیوالی امن ریلیوں اوردعائیہ تقریبات میں شہدائے APS کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سرگرم پاک فوج کے شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا گیا، مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے طلباء راہنماؤں نے تعلیم کے ذریعے دہشتگردی کو شکست دینے کا عہد کیا۔

لاہور ماڈل ٹاؤن کالج، ٹاؤن شپ کالج، گورنمنٹ کینٹ ٹاؤن کالج، مغل پورہ، وحدت کالونی ودیگر علاقوں میں امن ریلیاں نکالی گئیں۔ ماڈل ٹاؤن سے نکالی گئی مرکزی امن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدر عرفان یوسف نے کہا کہ APS کے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، دہشگردوں نے معصوم بچوں کو سفاکیت اور بربریت کا نشانہ بنایا، معصوم بچوں کو جس بے رحمی سے خون میں نہلایا گیا وہ مناظر کبھی نہیں بھول سکتے، دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے حکمرانوں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی بلکہ جھوٹے وعدے کئے۔

انہوں نے کہا کہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ آج امن ریلیاں منعقد کر کے عملی طور پردنیا کو امن کا پیغام دے رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا تحریر کردہ ’’امن نصاب‘‘ پڑھایا جائے تاکہ کوئی دہشتگرد معصوم بچوں کی ذہن سازی نہ کرسکے۔ امن ریلیوں سے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے راہنماؤں احسن ایاز کتھران، محب مجید، یونس نوشاہی، سعد مصطفوی ودیگر نے بھی خطابات کئے۔ امن ریلیوں میں APS کے شہید بچوں کے ذکر پر ہر آنکھ اشک بار ہوگئی، ریلیوں کے اختتام پر سانحہ APS کے شہداء کی درجات کی بلندی اور ملکی سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں۔

تبصرہ