آزادیِ اِظہارِ رائے کی حدود و قیود

محمد فاروق رانا

حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس، قرآن مجید اور اسلامی شعائر کو جب مختلف حیلے بہانوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو عام آدمی کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات کرنے والے اپنی ان حرکتوں کی کیا توجیہ پیش کرتے ہیں اور کیا اُن کی justification کا کوئی جواب ہے؟ محترم قارئین! اِس طرح کے مکروہ اِقدامات کے جواز پر آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ ہر شخص کو یہ آزادی اور حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے، جس کے خلاف چاہے اور جو چاہے کہہ سکتا ہے اور لکھ سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اپنی اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے وہ آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کی حدود و قیود اور خود اپنے دساتیر و اِلہامی کتب میں موجود تعلیمات کو یکسر فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کی اِنہی حدود و قیود کو خود مغربی ممالک کے دساتیر و قوانین اور اُنہی کی شخصیات کے اَقوال کے ذریعے بیان کیا جارہا ہے۔

اِظہارِ رائے کی آزادی جدید تہذیب و تمدن کا قیمتی اَثاثہ ہے۔ انسانیت نے آزادی کی یہ نعمت صدیوں کی جاں گسل قربانیوں اور مشکلات کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔ اگر آزادیِ اِظہارِ رائے کو چند اَخلاقی ضابطوں کا پابند بنا دیا جائے تو اس سے کوئی انسانی حق مجروح نہیں ہوتاکیوں کہ آزادیِ اِظہارِ رائے اگرچہ ہر اِنسان کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ حق مطلق و بے مہار نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔ حقوق کا معاملہ بالعوض اور بالمقابل (reciprocal) ہوتا ہے اور ان کے اِطلاق کا اِنحصار دوسروں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ہوتا ہے۔ اس سوچ پر اصرار کرنا کہ آزادی کا یہ تحفہ ایک مطلق حیثیت رکھتا ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے، نامناسب بات ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا حق دوسرے کی بنیادی انسانی حقوق کی نفی کرتا ہو۔ ہر وہ ملک جو اس ’مہذب اور جمہوری‘ دنیا کا حصہ دار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس نے اِظہارِ رائے کی آزادی کے سلسلے میں اپنی سوسائٹی کے مفادات کے پیشِ نظر اپنی حدود خود متعین کر رکھی ہیں تاکہ مخصوص معاشرتی اِنسانی رویوں کو ایک خاص سطح پر اپنے علاقائی رسوم و رواج، اَخلاق، مسلمہ معاشرتی اَقدار، کلچر اور مذہب کی حفاظت کی بنیاد پر برقرار رکھ سکے۔

1۔ آزادیِ اِظہارِ رائے، وقارِ اِنسانی کے تحفظ سے مشروط ہے

آزادیِ اِظہارِ رائے بنیادی انسانی حقوق میں سے ہے جسے حقوقِ اِنسانی کے عالمی اِعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights)، قانونِ حقوقِ اِنسانی (Bill of Rights) اور بنیادی اِنسانی حقوق کے تمام ممالک کی دستاویزات میں تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ لیکن دنیا کے کئی ممالک کے دساتیر میں اس کے ساتھ ساتھ عزت و حرمت کو تحفظ دینے والے قوانین کی موجودگی اِس اَمر کا بین ثبوت ہے کہ اِنسانی وقار کی حفاظت بھی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ جس طرح آزادیِ اِظہارِ رائے بنیادی اِنسانی حقوق میں سے ہے، اُسی طرح اِنسانی وقار کی حفاظت بھی بنیادی اِنسانی حق ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ذیل میں اس سلسلہ میں عالمی دساتیر اور شخصیات کے حوالے درج کیے جارہے ہیں:

(1) امریکی دستور

عالمی دساتیر اور قوانین ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو اِنسانی وقار کو مجروح کرنے کا باعث ہوں؛ حتی کہ امریکی دستور کی آٹھویں ترمیم اِنسانی وقار کے تحفظ کو اس حد تک یقینی بناتی ہے کہ اِس ترمیم کی رُو سے:

A punishment must not by its severity be degrading to human dignity.

’کسی کو کوئی بھی ایسی سزا نہیں دی جاسکتی جس کی شدت اور انداز اِنسانی وقار کے منافی ہو۔‘

اِس تناظر میں کسی اِنسانی رویے کو کیونکر اِس اَمر کی اِجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ کسی کی اِہانت اور بے توقیری کا سبب بنے؟

(2) سابق سیکرٹری جنرل UN: کوفی عنان

اَقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان (Kofi Annan) نے کہا تھا:

I also respect the right of freedom of speech. But of course freedom of speech is never absolute. It entails responsibility and judgment.

’میں آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کا اِحترام کرتا ہوں لیکن اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حق قطعاً بھی مطلق نہیں ہے۔ یہ حق اِحساسِ ذِمہ داری اور دانش مندی کے ساتھ مشروط ہے۔‘

(3) سابق برطانوی وزیر خاجہ جیک سٹرا

سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا (Jack Straw) نے کہا تھا:

There is freedom of speech, we all respect that. But there is not any obligation to insult or to be gratuitously inflammatory. … There are taboos in every religion. It is not the case that there is open season in respect of all aspects of Christian rites and rituals in the name of free speech. Nor is it the case that there is open season in respect of rights and rituals of the Jewish religion, the Hindu religion, the Sikh religion. It should not be the case in respect of the Islamic religion either. We have to be very careful about showing the proper respect in this situation.

’ہر شخص کو آزادیِ اِظہارِ رائے کا حق حاصل ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں لیکن کسی کو بھی توہین کرنے یا بغیر کسی سبب کے اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ … ہر مذہب کے لیے کچھ قابلِ حرمت اُمور ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ درست نہیں کہ آزادیِ اِظہار رائے کے نام پر عیسائیوں کی تمام مقدس رسوم اور عبادات پر ہر طرح کی تنقید کی جاتی رہے اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش ہے کہ یہودی، ہندو یا سکھ مذہب کے حقوق اور مقدس رسوم کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ نہ ہی ایسا رویہ مذہبِ اسلام کے حوالے سے اختیار کیا جانا چاہیے۔ ہمیں اس طرح کی صورت حال میں عزت و احترام کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاط کرنا ہوگی۔‘

(4) سابق ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

امریکی محکمۂ خارجہ کے سابق ترجمان کرٹس کوپر (Kurtis Cooper) نے کہا:

We all fully respect freedom of the press and expression but it must be coupled with press responsibility. Inciting religious or ethnic hatred in this manner is not acceptable.

’ہم سب اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کا خوب اِحترام کرتے ہیں لیکن اِسے صحافتی ذمہ داری سے ماورا نہیں ہونا چاہیے۔ مذہبی یا نسلی نفرت کو اِس آڑ میں بھڑکانے کا عمل قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔‘

(5) سابق فرانسیسی وزیر خاجہ فلپ ڈوسے بلیزی

سابق فرانسیسی وزیر خارجہ فلپ ڈوسے بلیزی (Philippe Douste-Blazy) نے کہا تھا:

The principle of freedom should be exercised in a spirit of tolerance, respect of beliefs, respect of religions, which is the very basis of secularism of our country.

’آزادیِ اِظہارِ رائے کے قانون پر عمل برداشت، عقائد اور مذاہب کے احترام کی روح کے ساتھ ہونا چاہیے جو ہمارے ملک کے سیکولراِزم کی بنیادی اَساس ہو۔‘

2۔ اِلہامی کتب اور آزادیِ اِظہارِ رائے

بظاہر آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کا بہت غلغلہ ہے لیکن دنیا کا کوئی بھی مذہب مقدس ہستیوں، رسولوں، پیغمبروں اور اللہ کے کلام کی اہانت کی اجازت نہیں دیتا؛ حتیٰ کہ ’کتابِ مقدس (The Bible)‘ کا ’عہد نامہ عتیق (Old Testament)‘ اور ’عہد نامہ جدید (New Testament)‘ دونوں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین سے منع کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ’عہد نامہ عتیق‘ کی کتاب ’اِحبار (Leviticus)، 24:13-16‘، ’اِحبار (Leviticus)، 24:23‘، ’2 سموئیل (2 Samuel)، 12:14‘ میں اور ’عہد نامہ جدید‘ کی کتاب ’متی کی اِنجیل (Matthew)، 12:32‘، ’مرقس کی انجیل (Mark)، 3:29‘ اور ’لوقا کی انجیل (Luke)، 12:10‘ ملاحظہ ہوں۔

اِسلام - جو قدیم آسمانی مذاہب ہی کا تسلسل ہے - نے بھی تمام رسولوں اور پیغمبروں خصوصاً حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اِحترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ دنیا کے تمام براہیمی اَدیان نے پیغمبروں کی توہین کی ممانعت کی ہے لیکن ’عہد نامہ عتیق (Old Testament)‘، ’عہد نامہ جدید (New Testament)‘ اور قرآنِ مجید میں پیغمبروں کے اِحترام کی تعلیمات نے کسی بھی شخص کو اظہارِ رائے کی آزادی کے حق سے محروم نہیں کیا۔

3۔ آزادیِ اِظہارِ رائے بارے وضعی قوانین

آزادیِ اِظہارِ رائے کی حدود و قیود کا تعین کرنا، اسے محدود کرنا نہیں ہے۔ یہ کوئی مطلق حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ تمام حقوق ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں اور ان کا نفاذ دوسرے کے بنیادی حقوق کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ یہ تصور غلط ہے کہ کوئی حق مطلق حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ ایسا حق دوسرے بہت سے بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کرسکتا ہے۔ ہر وہ ملک جو مہذب اور جمہوری ہونے کا دعوے دار ہے، اس نے معاشرتی اور سماجی مفادات کے تناظر میں آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کو مخصوص حدود کا پابند کیا ہے تاکہ انسانی رویے کی ایک مخصوص سطح کو برقرار رکھا جاسکے، چاہے اس پابندی کی بنیاد مقامی رسوم و رواج ہوں یا تہذیب و مذہب ہو؛ لیکن حقیقی مقصد یہی ہے کہ اُن کے اَخلاقی، مذہبی، سماجی اور معاشرتی اَقدار کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

  1. دنیا بھر میں قانونِ ہتکِ عزت (law of defamation) کے مطابق آزادیِ اِظہارِ رائے کے مستقل حق کو محدود کیا گیا ہے تاکہ ایک فرد کے حقوق میں توازن پیدا کیا جاسکے۔ اسی طرح ایسے عمل کو، جس سے ایک پورے طبقے کو اذیت پہنچتی ہو، محض اظہارِ رائے کی آزادی کے عنوان کے تحت جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔
  2. مزید برآں کئی ممالک میں ان کے دساتیر اور مخصوص قومی اداروں مثلاً: فوج، عدلیہ اور پارلیمان کی توہین کو یا تو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے یا اس رویے کی مذمت کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں توہینِ عدالت کا قانون موجود ہے جو واضح طور پر آزادیِ اظہارِ رائے کی حدود متعین کرتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کی سزا قید ہے۔ لہٰذا آزادیِ اظہارِ رائے کا حق قطعی طور پر مطلق نہیں ہے بلکہ اسے بنیادی انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی طبقے کے جذبات کو مجروح کرنا کسی صورت میں بھی آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کے زُمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔
  3. دنیا کے کئی ممالک میں واضح طور پر بچوں کی برہنہ تصاویر کی اِشاعت یا مذہبی و نسلی نفرت پھیلانے والے مواد کی اِشاعت پر پابندی عائد ہے۔
  4. کئی یورپی ممالک میں ہولو کاسٹ (Holocaust) کا اِنکار جرم ہے، حتی کہ آسڑیا، بیلجیم، چیک ری پبلک، فرانس، جرمنی، اسرائیل، لیتھوانیا، پولینڈ، رومانیہ، سلوواکیا اور سوئٹزر لینڈ میںاِس جرم کی سزا جرمانے اور قید دونوں صورتوں میں مقرر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس پر اتفاق اور معاہدہ موجود ہے کہ اس طرح کی پابندی ہرگز اِظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی نہیں کیونکہ اس سے ایک مذہبی طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
  5. اِسی طرح کسی مذہب کی توہین بھی اِرتکابِ جرم ہے کیونکہ اس سے ایک پورے طبقے کو اذیت پہنچتی ہے جس کا اس مذہب پر ایمان ہے۔ سو اس عمل کو کسی بھی طرح کی آزادی کے حق کا جواز فراہم نہیں کیا جانا چاہیے، خصوصاً جب یہ عمل اَمنِ عالم، بین المذاہب ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے بھی خطرہ کا باعث ہو۔

4۔ آزادیِ اِظہارِ رائے پر پوپ فرانسس کا موقف

پوپ فرانسس (Francis) نے پیرس میں جنوری 2015ء کے دہشت گردانہ حملوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی میں کچھ ضروری حدود و قیود ہوتی ہیں خصوصاً جب کسی کی مذہبی دل آزاری کی جائے۔ پوپ فرانسس نے مزید کہا:

There are so many people who speak badly about religions or other religions, who make fun of them, who make a game out of the religions of others. They are provocateurs. And what happens to them is what would happen to Dr Gasparri; if he says a curse word against my mother, he can expect a punch. There is a limit. I refuse any form of personal insult, and when the insult is related to religions, they cannot be approved neither at a human, nor at a moral and social level. They do not help the peace in the world, and do not produce any benefit. You cannot provoke. You cannot insult the faith of others. You cannot make fun of the faith of others. [The Christian Post, January 15, 2015.]

’بہت سے لوگ مذاہب کے بارے میں بڑی تحقیر آمیز گفتگو کرتے ہیں۔ دوسروں کے مذاہب کا مذاق اڑاتے ہیں اور اِس تحقیر کو اپنا مشغلہ بنا لیتے ہیں۔ یہ لوگ در حقیقت اشتعال دلانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو میرے دوست ڈاکٹر گیسپری (Dr Gasparri) کے ساتھ ہو گا۔ اگر وہ میری ماں کے خلاف کوئی توہین آمیز لفظ بولتا ہے ایسے عمل پر اسے میری طرف سے ایک مُکے کی توقع ہی کرنی چاہیے۔ ہر کام کی کوئی حد ہوتی ہے۔ مجھے ذاتی بے توقیری قطعاً ناقابل قبول ہے، خصوصاً جب بے توقیری مذہب سے متعلق ہو تو ایسا عمل نہ تو انسانی سطح پر اور نہ ہی اخلاقی و معاشرتی سطح پر قبول کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے والے دنیا میں امن برقرار رکھنے کی کوئی مدد نہیں کرتے اور نہ ہی دنیا کے لئے خود کو منفعت بخش ثابت کرتے ہیں۔ کسی کو اشتعال دلانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ آپ کو دوسروں کے اعتقادات کی تحقیر کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ کو دوسروں کے عقائد کے مذاق اڑانے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘

5۔ اَقوامِ متحدہ کا چارٹر

اِنفرادی عزت و وقار اور مذہبی آزادی کا تحفظ ایسے بنیادی اِنسانی حقوق ہیں جنہیں دنیا بھر میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے دساتیر و قوانین کے ساتھ ساتھ اَقوامِ متحدہ کے چارٹر نے بھی اِن حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے پہلے آرٹیکل کی شق نمبر 3 میں اِن حقوق کو ان الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے:

To achieve international co-operation in solving international problems of an economic, social, cultural, or humanitarian character, and in promoting and encouraging respect for human rights and for fundamental freedoms for all without distinction as to race, sex, language, or religion.

’یہ قرار دیا جاتا ہے کہ معاشی، سماجی، ثقافتی اور اِنسانی نوع کے عالمی مسائل و تنازعات کے حل کے لیے اور انسانی حقوق کے اِحترام کے فروغ و حوصلہ اَفزائی کے لیے اور تمام بنی نوع انسان کے لیے نسل، جنس یا مذہب کی تفریق کے بغیر بنیادی اِنسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر عالمی برادری کا تعاون حاصل کیا جائے گا۔‘

6۔ یورپی کنونشن

حقوق انسانی کے یورپی کنونشن کے آرٹیکل نمبر 9 میں قرار دیا گیا ہے کہ:

Freedom to manifest one's religion or beliefs shall be subject only to such limitations as are prescribed by law and are necessary in a democratic society in the interests of public safety, for the protection of public order, health or morals, or for the protection of the rights and freedoms of others.

’کسی فرد کے مذہب اور عقیدہ کے اظہار کی آزادی صرف قانون میں بیان کی گئی حدود کے ساتھ مشروط ہو گی اور یہ ایک جمہوری معاشرے میں عوامی تحفظ کے حصول، امن عامہ کے قیام، صحت اور اخلاقیات کے تحفظ اور دوسرے افراد معاشرہ کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘

7۔ امریکی دستور کا بل آف رائٹس

امریکہ کے دستور کے بل آف رائٹس (Bill of Rights) کی ترمیم نمبر 1 میں کہا گیا ہے:

Congress shall make no law respecting an establishment of religion, or prohibiting the free exercise thereof; or abridging the freedom of speech, or of the press; or the right of the people peaceably to assemble, and to petition the government for a redress of grievances.

’کانگریس کسی مذہبی ادارہ یا اس کے آزادانہ مذہبی عمل کرنے سے منع کرنے سے متعلق یا آزادئ تقریر و اخبارات پر قدغن لگانے سے متعلق یا لوگوں کے پر امن اجتماع منعقد کرنے اور مسائل کے حل کے لیے حکومت کو عرض داشت کرنے کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔‘

8۔ ممانعتِ اہانتِ مذہب پر قانون سازی کرنے والے ممالک

بعض امریکی ریاستوں کی دستوری کتب میں اِہانتِ مذہب کے قوانین موجود ہیں۔ Massachusetts کا باب 272 سیکشن 36 بیان کرتا ہے:

Whoever wilfully blasphemes the holy name of God by denying, cursing or contumeliously reproaching God, his creation, government or final judging of the world, or by cursing or contumeliously reproaching Jesus Christ or the Holy Ghost, or by cursing or contumeliously reproaching or exposing to contempt and ridicule, the holy word of God contained in the holy scriptures shall be punished by imprisonment in jail...

’جو کوئی ارادتاً خداوند کے پاک نام کی گستاخی یا اس کی خلّاقی، حکومت، آخرت کے انکار، اہانت، ملامت کی صورت میں کرے یا حضرت عیسیٰ e کی مقدس روح کی قابل نفرت انداز میں ملامت کرے یا مضحکہ اُڑانے کی صورت میں اہانت کرے یا خدا کے پاک نام (جو عہدنامہ قدیم و جدید میں درج ہے)کی تضحیک کرے کی سزا جیل کی سلاخیں ہیں۔‘

ممانعتِ اِہانت پر قانون سازی کرنے والے دیگر ممالک درج ذیل ہیں:

  1. آسٹریا: کریمینل کوڈ (Criminal Code) کا آرٹیکل نمبر 188 اور 189
  2. فن لینڈ: تعزیراتی قانون (Penal Code) کے باب نمبر 17 کا جزو نمبر 10
  3. جرمنی: کریمینل کوڈ (Criminal Code) کا آرٹیکل نمبر 166
  4. نیدر لینڈز: کریمینل کوڈ (Criminal Code) کا آرٹیکل نمبر 147
  5. اسپین: کریمینل کوڈ (Criminal Code) کا آرٹیکل نمبر 525
  6. آئیر لینڈ: اس کے آئین کے آرٹیکل نمبر 40.6.1.i کے تحت توہین آمیز مواد کی اِشاعت ایک جرم قرار ہے؛ جب کہ 1989ء کے Prohibition of Incitement to Hatred Act کے تحت کسی خاص مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز مواد کی اِشاعت بھی جرم قرار دے دی گئی ہے۔
  7. کینیڈا: کریمینل کوڈ (Criminal Code) کا سیکشن نمبر 296
  8. نیوزی لینڈ: 1961ء کے نیوزی لینڈ کرائمز ایکٹ (New Zealand Crimes Act) کا سیکشن نمبر 123
  9. مسیحی دنیا میں کلیساؤں کو مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے اور بعض یورپی ممالک میں اِس تقدس کو آئینی تحفظ بھی حاصل ہے۔ اس کی ایک مثال ڈنمارک کا دستور ہے، جس کے سیکشن نمبر 4 (State Church) کے مطابق ’Evangelical Lutheran Churchکو ڈنمارک کا سرکاری کلیسا قرار دیا جائے گا اور یوں اسے ریاست کی مکمل حمایت حاصل ہوگی‘۔

9۔ نفرت انگیز تقاریر و گفتگو کے خلاف قوانین

یہاں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ بہت سے یورپی ممالک میں صرف مذاہب کی توہین سے روکنے والے قوانین پہلے ہی رائج اور نافذ ہیں، جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں؛ بلکہ دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر و گفتگو کے خلاف قوانین بھی موجود ہیں۔ ان ممالک میں برازیل (Brazil)، کینیڈا (Canada)، چلی (Chile)، یورپی کونسل (Council of Europe)، کروشیا (Croatia)، ڈنمارک (Denmark)، فِن لینڈ (Finland)، فرانس (France)، جرمنی (Germany)، آئس لینڈ (Iceland)، بھارت (India)، آئر لینڈ (Ireland)، نیدر لینڈز (Netherlands)، نیوزی لینڈ (New Zealand)، ناروے (Norway)، پولینڈ (Poland)، سنگاپور (Singapore)، جنوبی افریقہ (South Africa)، سویڈن (Sweden) اور سوئٹزرلینڈ (Switzerland) وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

درج بالا قوانین اور ان کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آزادیِ اِظہارِ رائے کا حق بنیادی اِنسانی حق ہے لیکن یہ دوسری آزادیوں کی طرح ایک اضافی اور مشروط آزادی ہے۔

10۔ اسلام اور آزادیِ اِظہارِ رائے

اسلام اور اس کے بنیادی عقائد کے بارے میں ہزاروں کتابیں اور اخباری مضامین تاحال شائع ہو چکے ہیں جن میںاسلام اور اس کے بنیادی عقائد پر تنقید کی گئی ہے لیکن مسلمان علمی مباحثے پر کبھی اعتراض نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل اسلام کے بارے میں جاری مباحثے کا حصہ ہے اور یہ سب کچھ آزادیِ اِظہارِ رائے کی حدود کے اندر ہے۔ آج دنیا میں اخبارات میں ایسے لاتعداد مضامین شائع ہو رہے ہیں جن میں اسلام کی غلط تعبیرات پیش کی جاتی ہیں بلکہ اکثر اوقات تو اسلام اور اس کے قوانین کے بارے میں مبینہ انداز میں مکمل جھوٹ پر مبنی مبالغہ آمیز کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں، لیکن مسلمان انہیں نہ صرف برداشت کرتے ہیں بلکہ رواداری کا رویہ بھی اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لبرل جمہوریتوں پر مبنی جن معاشروں میں رہ رہے ہیں یہ سب کچھ ان کا جزوِ لاینفک ہے۔

لیکن جب اِظہارِ رائے کی آزادی کے اس حق کا غلط طور پر استعمال کرتے ہوئے اسلام کی سب سے مقدس ترین آسمانی کتاب قرآن اور مقدس ترین ہستی صاحبِ قرآن ﷺ کی واضح طور پر توہین کی جاتی ہے تو اس سے لازمی طور پر مسلمانوں میں اِضطراب اور اِشتعال پیدا ہوگا۔

ان تمام تفاصیل سے واضح ہوتا ہے کہ اگر برداشت، رواداری اور بقائے باہمی کے عالمی متفقہ اُصول کو نظر انداز کر دیا جائے اور اَخلاقی اور مذہبی اَقدار کی بے توقیری کی جائے تو اَمنِ عالم کی موجودہ صورت حال بدتر ہو جائے گی اور دنیا میں موجود تناؤ کو ختم کرنے کی تمام کوششیں بےسود ہو کر رہ جائیں گی۔ آج اِس اَمر کی شدید ضرورت ہے کہ اِس خوف ناک اور پریشان کن صورتِ حال کے خاتمے کے لیے فوری اِقدامات کیے جائیں۔

ماخوذ از ماہنامہ منہاج القرآن، دسمبر 2020ء

تبصرہ