کامسیٹس یونیورسٹی کے 3 ہزار متاثرہ طلبہ کے ساتھ انصاف کیا جائے: ایم ایس ایم

یونیورسٹی نے فیس کے نام پر اربوں لوٹے، ڈگری مانگنے والے طلبہ کو ہراساں کیا جارہا ہے

لاہور (5 مارچ 2015) مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ لاہور کا ہنگامی اجلاس کوآرڈینیٹر لاہور ڈاکٹر اویس گیلانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ کامسیٹس یورنیورسٹی کے 3 ہزار طلبہ سے ناانصافی ہو رہی ہے، طلبہ سے اربوں روپے فیس لینے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ انہیں ڈگری دینے سے انکار کررہی ہے۔ طلبہ سے کامسیٹس یونیورسٹی نے دوہری ڈگری پروگرام کے تحت ہزاروں طلبہ کی رجسٹریشن کی جس کے عوض اربوں روپے فیس وصول کی تاہم جب ڈگری دینے کا وقت آیا تو اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی۔ اجلاس میں سید باسط علی، اعجاز مصطفوی، جبار یوسف، محمد علی، زوہیب فاروق، سرگودھا یونیورسٹی سے محمد عثمان مختار، پنجاب یونیورسٹی سے طاہر فرید، منہاج یونیورسٹی سے محمد قاسم، یونیورسٹی آف لاہور سے محسن وقار، محمد اویس، بابر جٹ، عمران جٹ نے شرکت کی۔

طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی میں ایک اہم حکومتی رکن کے شیئر ہیں اور سرکاری سرپرستی میں طلبہ کو لوٹا جارہا ہے۔ طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ انصاف مانگنے والے طلبہ کو یونیورسٹی انتظامیہ مختلف حیلے، بہانوں سے ہراساں کررہی ہے اور ان کا تعلیمی مستقبل خراب کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اس ڈیول ڈگری سکینڈل کی چھان بین کیلئے ہائیکورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایم ایس ایم کے طلبہ نے کہا کہ اگر متاثرہ طلبہ کے مطالبات نہ مانے گئے تو ان سے ملکر بھرپوراحتجاج کرینگے۔ طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو شوگر ملوں کی طرح چلانے والے مافیا پر اب پاکستان کی زمین تنگ کر دینے کا وقت آ گیاہے۔

تبصرہ