پنجاب یونیورسٹی طلبہ تصادم حکومتی نااہلی سے بین الصوبائی تنازع بن گیا: عرفان یوسف

پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے، صدر ایم ایس ایم
تعلیمی اداروں کو تشدد کا مرکز بنانے والوں کوآپریشن ردالفساد کے تحت ڈیل کیا جائے
بلوچستان اسمبلی میں پنجاب میں زیر تعلیم 25ہزار طلبہ کے بارے فکر مندی کا اظہار کیا گیا

لاہور (8 اپریل 2017) مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدرچودھری عرفان یوسف نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلبہ پر حملہ کا معاملہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے بلوچستان اسمبلی کے اندر پہنچ گیا اور بین الصوبائی تنازع بن گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کو تشدد اور خوف کا مرکز بنانے والوں کو آپریشن ردالفساد کے تحت ڈیل کیا جائے۔ بلوچستان اسمبلی نے تحریک التوائے کار پر طویل بحث کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے جو طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں حکومت پنجاب سے بات کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اراکین اسمبلی کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے۔ وہ مرکزی سیکرٹریٹ میں طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔

چودھری عرفان یوسف نے کہا کہ ایم ایس ایم یونیورسٹیوں کو پاکستانیت کے فروغ، علم ، امن اور محبت کے مراکز میں بدلنا چاہتی ہے، تعلیمی اداروں کو تشدد اور نفرت سے پاک کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ پنجاب کی سرکاری یونیورسٹی میں پختون طلبہ پر حملہ کا معاملہ کسی اور صوبہ کی اسمبلی میں زیر بحث آیااور بحث و تمحیص کے بعد باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اس معاملہ پر بلوچستان اسمبلی کے معززاراکین کو مطمئن نہ کیا تو اس کے وفاق پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے طالب علم پاکستان کے طالب علم ہیں وہ جہاں چاہیں علم حاصل کریں کوئی طاقت ان سے یہ حق نہیں چھین سکتی۔

تبصرہ