ایک زبان، ایک نصاب سے ایک پاکستان بنے گا: ڈاکٹر حسن محی الدین

اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، ریاستی ذمہ داروں کو نیند کیسے آجاتی ہے؟
ایک زبان، ایک نصاب سے ایک پاکستان بنے گا: ڈاکٹر حسن محی الدین
مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیر اہتمام قومی طلبہ کنونشن، چاروں صوبوں سے ہزاروں طلبہ کی شرکت
کنونشن کے اختتام پر قذافی سٹیڈیم سے لبرٹی چوک تک ریلی نکالی گئی، عرفان یوسف و دیگر کا خطاب
سائنسدان، انجینئر بننے والے بچے فیسیں نہ ہونے کی وجہ سے الیکٹریشن، پلمبر بننے پر مجبور ہیں
افغانستان تعلیم پر جی ڈی پی کا پاکستان سے زیادہ خرچ کرتا ہے، طلبہ کنونشن سے خطاب
تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنانے والے قیامت کے دن اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟
پل، سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں، انسانوں پر کی جانیوالی انویسٹمنٹ نسل در نسل پھل دیتی ہے

لاہور (یکم دسمبر 2019ء) منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرحسن محی الدین قادری نے الحمراء کلچرل کمپلیکس قذافی میں منعقدہ قومی طلبہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے اب تک 22 تعلیمی پالیسیاں بنیں سب کی سب ناکام ثابت ہوئیں، ایک قوم اور ایک پاکستان بنانے کے لیے ایک زبان میں ایک نصاب تیار کرنا ضروری ہے، جاپان، جرمنی، امریکہ، برطانیہ، چین سمیت کوئی ملک ایسا نہیں جس نے کسی اور کی زبان میں تعلیم حاصل کر کے ترقی کی ہو، پاکستان میں اغیار کی زبان کو تعلیمی زبان کے طور پر مسلط کرنے پر بضد صاحب اختیار پاکستان کو زمانہ غار کی طرف دھکیل رہے ہیں، دنیا کی زندہ زرخیز اور توانا 20 زبانوں میں اردو بھی شامل ہے، اردو زبان کو دفتری زبان بنانے کے لیے عدالتی فیصلوں کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، انہوں نے طلبہ حقوق، ایک زبان، ایک نصاب اور ایک پاکستان کے سلوگن کے ساتھ قومی طلبہ کنونشن کے کامیاب انعقاد پر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدر عرفان یوسف اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی، ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو کنونشن میں خوش آمدید کہا۔

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ قیام پاکستان کے وقت شرح خواندگی 11 فیصد تھی، ہر سال ایک فیصد اضافہ بھی ہوتا تو آج شرح خواندگی 83 فیصد سے تجاوز کر چکی ہوتی، پاکستان جنوبی ایشیاء میں تعلیم پر جی ڈی پی کا سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے، پڑھے لکھے پاکستان کے خواب کو بڑے بڑے بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے تعبیر ملے گی، اگر ریاست کے ذمہ دار چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے رومی، رازی، غزالی، اقبال اور قائداعظم جیسی ہستیاں پیدا کرنی شروع کر دیں تو پھر ہمیں ایک زبان اور ایک نصاب کا راستہ اختیارکرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، جن کے پاس اختیار اور وسائل ہیں انہیں نیند کیسے آجاتی ہے؟ گزشتہ 10 سالوں میں ریاست کی عدم توجہی کے باعث فی طالب علم تعلیمی اخراجات میں 150 فیصد اضافہ ہو چکا، اعلیٰ تعلیم غریب خاندانوں کے بچوں کی پہنچ سے باہر نکل چکی ہے، جن بچوں نے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، نیوٹریشنسٹ بننا تھا بھاری فیسیں نہ ہونے وجہ اور حالات کے جبر نے انہیں الیکٹریشن اور پلمبر بننے پر مجبور کردیا، نسلوں کے ساتھ ہونے والے اس جرم میں ہر وہ شخص شریک ہے جسے ریاست کے اختیارات اور وسائل کا امین بنایا گیا، انہوں نے کہا کہ تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنانے والے حکمران قیامت کے دن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان تعلیم پر جی ڈی پی کا 3.2 اور پاکستان 2.4 فیصد خرچ کرتا ہے، سری لنکا جی ڈی پی کا 3.5 فیصد استعمال کر کے 91 فیصد شرح خواندگی رکھتا ہے، 2008ء میں پلان بنایا گیا تھا کہ ہر سال ایک ہزار طالب علم سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کے لیے بیرون ملک بھیجے جائیں گے مگر یہ تعداد 250 سے نہ بڑھ سکی، بیرون ملک عالیشان محلات تعمیر کرنے والے حکمرانوں نے عالیشان یونیورسٹیاں اور کالج کیوں نہیں بنائے؟

انہوں نے مزید کہا کہ قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے تعلیم سب کے لیے کا ویژن دیا اور پھر اس قوم کے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے ملک بھر میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت 600 سے زائد ماڈل سکول قائم کیے جہاں ایک لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، الحمداللہ بہترین معیار تعلیم کی وجہ سے ہر سال ملک کے مختلف امتحانی بورڈز میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے بچے اول، دوم، سوم پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قائد تحریک منہاج القرآن نے عالمی معیار کے کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں قوم کے بیٹے اور بیٹیاں تعلیم اور تربیت حاصل کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن نے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے تحت دین اور دنیا کی تعلیم کو یکجا کر دیا، یہاں سے فارغ التحصیل سکالرز بیک وقت اسلامک اکانومسٹ بھی ہوتے ہیں اور فقہ کے سکالر بھی، وہ آئی ٹی ایکسپرٹ بھی ہوتے ہیں اور علوم شریعہ کے عالم بھی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نظام تعلیم کو اول تا آخر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے طلبہ کو ان کے حقوق بھی دینے ہوں گے اور وسائل بھی، پاکستان کے طالب علم دنیا کے بہترین دل اور دماغ رکھنے والے نوجوان ہیں، ہمیں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد اور انحصار کرنا ہو گا، یہ پاکستان کا محفوظ اور خوشحال مستقبل ہیں، میں موجودہ حکمرانوں سے کہوں گا کہ وہ ریاست مدینہ کی تشکیل چاہتے ہیں تو پھر قومی وسائل کارخ تعلیم کی ترقی کی طرف موڑیں، بڑی بڑی عالیشان سڑکیں اور عمارات کچھ سالوں کے بعد ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں، ان کی خوبصورتی گہنا جاتی ہے مگر ایک انسان کے کردار اور تعلیم و تربیت پر کی جانے والی انویسٹمنٹ اور محنت نسل در نسل پھل دیتی ہے، حکمران انسانیت اور تعلیم و تربیت پر انویسٹمنٹ کریں۔

پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب قومی طلباء کنونشن کے انعقاد پر ایم ایس ایم کی پوری قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، انہوں نے کہا کہ آج کے کنونشن سے ثابت ہو گیا ہے کہ ایم ایس ایم طلباء کے حقوق کی واحد نمائندہ جماعت ہے، انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لئے ایس ایم ایس کی جدوجہد قابل تقلید ہے۔

مرکزی صدر ایم ایس ایم عرفان یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ نظریہ پاکستان کی مخالف قوتیں طلبا حقوق کی آڑ میں قومی اداروں کے خلاف زہر اگل رہی ہیں، ملکی ادارے ایسے بیرونی ایجنڈا رکھنے والوں کو کھل کھیلنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں، ؟ پاکستان کا مقدر مصطفوی انقلاب ہے، ایم ایس ایم کے طلباء نظریاتی شرپسندوں کے راستے کی دیوار ہیں، انہوں نے قومی زبان اردو میں یکساں نظام تعلیم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ قومی طلبا کنونشن میں ایک نظام ایک نصاب، انقلاب انقلاب کے فلک شگاف کے نعرے۔

ایم ایس ایم سندھ کے صدر علی قریشی نے سندھی زبان میں خطاب کیا اور زور دیا کہ اس نظام میں نوجوان کا استحصال ہو رہا ہے، نظام نہ بدلہ تو کچھ نہیں بدلے گا۔

صدر ایم ایس ایم آزاد کشمیر میر احسن میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ امت مسلمہ متحد ہو گی تو مسلہ کشمیر حل ہوگا، انہوں نے قومی طلبا کنونشن میں اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے زنجیر بنانے اور مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

صدر ایم ایس ایم جنوبی پنجاب عمران یوسف نے سرائیکی زبان میں خطاب کیا اور کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ویژن کے مطابق پڑھا لکھا پاکستان کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

صدر ایم ایس ایم شمالی پنجاب انصر محمود، احسان سنبل، اخلاق حسین، رانا تجمل، سردار محمد اویس اور محب مجیب نے بھی خطاب کیا۔ مرکزی قائدین، خرم نواز گنڈا پور، رفیق نجم، رانا محمد ادریس، جی ایم ملک، نوراللہ صدیقی، جواد حامد، فرح ناز، علامہ امداداللہ قادری، میر آصف اکبر، سردار منصور احمد خان، اشتیاق چودھری، لطیف مدنی، ایم ایچ شاہین، راجہ زاہد محمود، قاضی فیض الاسلام ودیگر شریک تھے، ایم ایس ایم کے طلباء کنونشن میں ایم ایس ایم کے سابق صدور اور ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کامیاب کنونشن پر مرکزی صدر عرفان یوسف اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ سیکرٹری سوشل میڈیا فراز ہاشمی نے سوشل میڈیا کیمپ اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور ایکٹیوسٹ کو خوش آمدید کہا۔ صدر سنٹرل پنجاب محمد فرحان عزیز نے خطاب اور محمد بلال نے قیادت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ترانہ پیش کیا اور بے پناہ داد حاصل کی۔

ایم ایس ایم سسٹرز کی صدر اقراء یوسف جامی نے کہا کہ تعلیمی انقلاب کے لئے طالبات اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ برسر پیکار ہیں، سابق سٹوڈنٹ لیڈر ملک باسط نے کہا کہ صرف ایم ایس ایم کے طلباء ظالم نظام کے خلاف برسر پیکار اور قربانیوں میں پیش پیش ہیں۔ خیبرپختونخوا کے طلباء نے طاہر راشا کے فلک شگاف نعرے لگائے، کنونشن کے اختتام پر ایم ایس ایم کے ہزاروں طلبہ نے قذافی سٹیڈیم سے لبرٹی چوک تک ریلی نکالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم طلبہ حقوق کے نام پر کسی کو نظریہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی دہشتگردی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی کو بیرونی ایجنڈے کے تحت قومی اداروں کی تضحیک کی اجازت دیں گے اور نہ ہی نصاب تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے۔ پاکستان کی ترقی اسلام اور نظریہ پاکستان کے احیاء میں ہے۔

تبصرہ